حالات کے ساتھ زندگی کو بدلنا


0

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حالات کے ساتھ زندگی کو بدلنا جب زندگی کے حالات بدلتے ہیں تو اپنے آپ کو بھی بدلنا ضروری ہو جاتا ہے مثال کے طور پر شادی سے پہلے لڑکی کے اور حالات ہوتے ہیں شادی کے بعد اس کو اپنے آپ کو بدلنا چاہیے جو ماں باپ کے گھر کے نخرے ہوتے ہیں ناز ہوتے ہیں وہ آگے خاوند کے پاس نہیں چلتے. اس کو تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے. پھر اس کے بعد اولاد ہو گئی تو اولاد ہونے کے بعد میاں بیوی کے تعلق میں ایک تبدیلی آتی ہے. وہ پہلے جیسے تعلقات نہیں ہو سکتے.

اس کے لیے خاوند اور بیوی دونوں کو توقع کرنی چاہیے. دیکھا گیا ہے کہ بیوی بچے میں مصروف ہوتی ہے. اور خاوند کے گلے شکوے کرنا شروع کر دیتا ہے. مجھ سے تو محبت ہی نہیں رہی. آپ کے پاس تو میرے لیے ٹائم ہی نہیں ہے. خاوند کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اب ماں بن گئی ہے. بچے کے ساتھ اس کا تعلق ایک فطری تعلق ہے. وہ بچے کی دیکھ بھال نہیں کرے گی تو پھر کون کرے گا. تو اس کو چیک کرنا چاہیے اور اس کو دیکھنا چاہیے.

لو لائف کے اندر بھی تبدیلیاں آ جاتی ہیں. شادی کے بعد میاں بیوی کے ملنے ملانے کی فریقنسی بہت زیادہ ہوتی ہے. جب ایک بچے ہوجاتے ہیں تو یہ فریقنسی کم ہوجاتی ہے تو اس کم فریقنسی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے پھر کئی مرتبہ عمر کے ساتھ جسم میں تبدیلیاں آ جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ جب یہ تبدیلیاں آ جائیں تو ان کا اس کے اوپر اثر پڑتا ہے اس کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے جس خاوند نے زندگی کے پچاس سال بیوی کے ساتھ گزار دیے تو اب کو یہ امید کرنی چاہیے کہ وہ بیس سال کا خاوند بن کر میرے ساتھ رہے جب بچے ہو جائیں

تو اب میاں بیوی کی سرگرمیاں پوری فیملی کے لیے ہونی چاہیے کہ جس میں میاں بیوی شریک ہوں اور بچے بھی شریک ہوں خاوند کے ساتھ اس پر اتفاق کریں کہ ہم نے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے کیوں کہ کئی مرتبہ بچوں کی تربیت کے نام پر میاں بیوی کا اختلاف ہی چلتا رہتا ہے بیٹھ کر طے کریں کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.