Larka ya Larki kiyon Paida hota || Islamic Story | Sabaq Amoz Kahani in Urdu | Urdu Islamic Stories


0

Larka ya Larki kiyon Paida hota

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تو مکہ کے کافر روزانہ ان سے کوئی نہ کوئی معجزہ دکھانے کے لیے کہتے دوران محفل حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عجیب عجیب سوالات پوچھے جاتے کہ شاید کبھی کسی سوال کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب نہ دے سکیں تو کہا جائے کہ کیسا نبی ہے جسے جواب نہیں آتا نعوذ باللہ ایسا نہ ہوا مشرک و کافر منصوبے بناتے رہے لیکن اللہ پاک نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم کا سمندر بنا دیا تھا

ایسے ہی ایک دن حضور کے پاس یہودیوں کا گروہ آیا اور اس دفعہ وہ ایسا سوال لے کر آئے کہ جس کا جواب اس وقت کسی کے پاس نہ تھا سوال یہ تھا کہ لڑکا یا لڑکی کے پیدا ہونے میں کیا چیز کردار ادا کرتی ہے کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کیوں لڑکی پیدا ہوتی ہے لڑکی اور لڑکے کی پیدائش میں عورت کے بیضے اور مرد کے جرثوم میں کیا کردار ادا کرتے ہیں

صحیح بخاری میں اس سے متعلقہ حدیث کے مطابق یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام قبول کرنے کے لیے ایسے سوالات پوچھے تھے کہ جن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اب ہم پوچھتے ہیں کہ عورت اور مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے جو بھی غالب آجائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے صحیح بخاری کی حدیث نمبر تین ہزار نو سو اڑتیس میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو آپ سے چند سوالات کرنے کے لیے آئے حضرت عبداللہ کہنے لگے آج میں مسلمانوں کے نبی سے تین مشکل ترین سوال کروں گا

جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہوگی دوسرا سوال تھا کہ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی اور تیسرا سوال یہ تھا کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر ایسا کیوں ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جواب اب مجھے جبرائیل نے آ کر بتایا ہے عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے

جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی جس کھانے سے سب سے پہلے اہل جنت کی ضیافت ہوگی وہ مچھلی کی کلیجی کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا جو نہایت لذیذ اور جلد ہضم ہوتا ہے اور بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آجائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آجائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی اللہ کے رسول ہیں پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہودی بڑے بہتان لگانے والے لوگ ہیں
اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام کے بارے میں انہیں کچھ معلوم ہو ان سے متعلق دریافت فرمائے چنانچہ چند یہودی آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تمہاری قوم میں عبداللہ بن سلام کون ہیں وہ کہنے لگے ہم میں سے سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے ہیں ہم میں سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسلام لائیں وہ کہنے لگے اس سے اللہ تعالی انہیں اپنی پناہ میں رکھے آپ نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اور انہوں نے یہی جواب دیا

اس کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اب وہ کہنے لگے یہ تو ہم میں سب سے بدتر آدمی ہے اور سب سے بدتر باپ کے بیٹے ہیں فورا ہی برائی شروع کر دی عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اسی کا مجھے ڈر تھا سبحان اللہ اللہ پاک ہمیں تمام برائیوں سے دور فرما نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی و پکی محبت عطا فرمائے

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.