Fajar ki Namaz ki Fazilat, Fajar Ka Wazifa in Urdu – Ilmicity


0

Fajar ki Namaz ki Fazilat

بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم، معزز ویورز، معزز ویورز حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نفل کی ادائیگی کے لیے یعنی جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ سنت بھی اصل میں نفل نماز ہے اسی طرح ہی ایک فرض نماز ہوتی ہے اور ایک اسی طرح ہی نفل پھر جو آپ نے زیادہ تاکید سے پڑھی ان کو سنت قرار دے دیتے ہیں اور باقی جو کبھی کبھار پڑھی وہ نفل ہو جاتی کسی نفل کی ادائیگی کے لیے اتنی جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے
جلدی پڑھتے نہیں تھے یعنی اس مراد یہ تھا کہ اس کی ادائیگی کے لیے آپ فکر کرتے تھے حضرت عائشہ ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع فجر کے وقت دو رکعت نماز یعنی فرض کی بات ہے یہاں آپ نے دو رکعت نماز پڑھنے کی شان کے بارے میں فرمایا کہ ان کو پڑھنا میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی عشاء اور فجر کی نمازوں میں آ سکتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ آئے اگرچہ اسے گھسیٹ کے کیوں نہ آنا پڑے یعنی گھٹنوں کے بل یا پیٹھ کے بل گھسیٹ گھسیٹ کے ہی کیوں نہ آنا پڑے تو بھی آئے لیکن آئے ضرور. اس لیے کہ جو شخص فجر کی نماز پڑھتا ہے وہ اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی پس وہ اللہ کے ذمے میں ہے اللہ کی حفاظت میں ہے اللہ کے ذمے ہو گیا پس اللہ تم سے اپنی حفاظت کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ نہ کرےگا اس بات کا مطلب یہ ہے یعنی جو اللہ کے ذمے ہے اس پر کوئی ظلم نہ کرے اور ظلم کر کے اللہ کے سامنے جوابدہ نہ ہو اس لیے کہ جس سے اللہ پوچھے گا مطالبہ کرے گا یقینا اسے اپنی گرفت میں لے لے گا اور لے کر منہ کے بل جہنم میں پھینک دے گا۔
اس سے کیا بات پتہ چلتی ہے کہ جو شخص فجر کی نماز کی حفاظت کرتا ہے وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اللہ کی حفاظت میں ہو جاتا ہے۔ کسی کو حق نہیں کہ اس پر ظلم اور زیادتی کرے۔ جو اس شخص پر زیادتی کرے گا یعنی جو فجر پڑھتا ہے۔ تو وہ دراصل اس ذمے میں خیانت کر رہا ہے جس کو اللہ نے اپنے ذمے لیا ہے۔ اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پکڑے گا۔ یعنی فجر پڑھنے والے کی عزت اور احترام لازم ہے کیونکہ صرف مومن ہی اس کی پابندی کرتا ہے
بہت سے لوگوں کے لیے فجر کی نماز بڑی بھاری ہوتی ہے وہ ایک خاص وقت سے پہلے نہیں اٹھتے کچھ لوگوں کی اکثر ہی قضا ہو جاتی ہے وہ چونکہ دیر سے سوتے ہیں تو صبح اٹھ نہیں پاتے تو ان کی حفاظت اللہ کے ذمے تو نہیں ہے تو اس لیے بہت ہی فکر کرنی چاہیے کہ فجر کی نماز قضا نہ ہو اور فجر پڑھنے والا شام تک اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے
اس میں ایک واقعہ بھی آتا ہے احادیث کی کتابوں میں عامش کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر ابن عمر کے سگے بیٹے اور حضرت عمرؓ کے پوتے تھے یہ حجاج کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حجاج کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ بہت ظلم کرتا تھا جب حجاج نے ان سے کہا اٹھو اور فلاں آدمی کی گردن مار دو تو سالم نے تلوار اٹھا لی کیونکہ اس کا حکم تھا مارنے کا اور اس آدمی کو پکڑا اور محل کے دروازے کی طرف چل پڑا تو ان کے والد ابن عمرؓ نے ان کو دیکھ لیا جب وہ اس آدمی کو باہر لے کے جا رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ کیا یہ واقعی ایسا کرنے جا رہا ہے
انہوں نے دو تین بار بات دہرائی پھر باہر لاکر سالم نے اس سے پوچھا کیا تم نے فجر کی نماز پڑھی ہے یعنی جس کو مارنے کا حکم تھا کہا تم نے فجر کی نماز پڑھی ہے اس نے کہا ہاں ظالم نے کہا پھر تم جس راستے سے جانا چاہتے ہو چلے جاؤ اور وہ واپس آئے اور تلوار پھینک دی حجاج نے ان سے پوچھا کیا تم نے اس کی گردن اڑا دی انہوں نے جواب دیا نہیں حجاج نے پوچھا کیوں سالم نے جواب دیا میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے فجر کی نماز ادا کی وہ اللہ کی حفاظت میں ہے
یہاں تک کے شام ہو جائے تو ان کے والد نے کہا کہ سمجھدار رہو۔ میں نے تمہارا نام اسی لیے سالم رکھا کہ تم سلامت رہو۔ یعنی اللہ کے ذمے کے اندر خیانت نہ کرو۔ تو بہرحال اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان سے بڑے بڑے حادثے بڑی بڑی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ جب وہ فجر کی نماز کی حفاظت کرتا ہے۔ اب تو الحمدللہ ہر شخص کے پاس موبائل پر الارم ہوتا ہے اور موبائل ہر شخص کے سرہانے ہوتا ہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صبح نہیں اٹھ پایا ایک نہیں دو تین الارم لگا لے پانچ پانچ منٹ کے وقفے پہ رکھ لیں
اس کو کیونکہ جو شخص یہ دو نمازیں پڑھے گا بخاری میں آتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا ایک اور روایت میں آتا ہے وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی یعنی فجر اور عصر کی اور پھر آپ نے فرمایا ان نمازوں میں سستی نہ کرو اگر تم اللہ کا دیدار کرنا چاہتے ہو اس طرح کہ جیسے تم چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی دھکم پیل کا بھی واسطہ نہیں پڑے گا یعنی جو ان نمازوں کی حفاظت کرتا ہے وہ اللہ کے دیدار کے قابل ہوگا اور پھر بعض اوقات لوگ رات قیام کرتے رہتے ہیں آخری حصے میں سو کے فجر قضا کر دیتے ہیں تہجد کے لیے اٹھے تھے پھر آنکھ نہیںکھلی فجر کے لیے تو یہ نہیں ہونا چاہیے
حضرت عمر رضی عنہ کہتے ہیں میں صبح کی نماز باجماعت پڑھوں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ساری رات قیام کروں ساری رات کے نوافل سے زیادہ محبوب ہے کہ فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ہاں منافق پر فجر کی نماز بھاری ہوتی ہے تو منافقت سے نکلنے کے لیے اس نماز کی پابندی ضروری ہے
ابی ابن کعب کہتے ہیں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اس کے بعد فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیا فلاں آیا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ یہ دو نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں۔ سب نمازوں سے زیادہ بھاری۔ یعنی فجر اور عشاء اور اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان میں کیا کچھ اجر و ثواب ہے تو تم ان میں ضرور آؤ خواہ گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ آنا پڑے۔ تو اس لیے خود بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی اپنے بچوں کو بھی اس کا پابند کریں۔

ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی فرمایا کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں جو تسبیح ہے فرشتوں اور مخلوق کی برکت سے روزی دی جاتی ہے، جب صبح صادق طلوع ہو تو ١٠٠ مرتبہ یعنی ایک تسبیح پڑھ لیا کرو،
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ
دنیا تیرے پاس ظلل ہوکر آے گی وہ شخص چلا گیا کچھ مدد بعد دوبارہ حاضر خدمت ہوا عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئ میں خود حیران ہوں کہاں اٹھاؤں اور کہاں رکھوں
تو دوستو امید ہے کہ آج کی اس ویڈیو کا مقصد آپ سب کو سمجھ میں آیا ہوگا اللہ ہم سب کو پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی توفیق عنایت فرماۓ اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کی توفیق عنایت فرماۓ آمین

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.