Hazrat Ali RZ Aur Aik Murday Ki Guftago


0

Hazrat Ali RZ Aur Aik Murday Ki Guftago

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ ہم لوگ مدینہ کے قبرستان میں گئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے قبر والوں پر سلام کر کے کہا اے قبر والو تم اپنی خبر بتاؤ گے یا ہم تم کو دنیا کے حالات بتا دیں سعد بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں

کہ ہم قبرستان سے وعلیکم السلام کی آواز سنی اور یہ جواب سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا اے امیرالمومنین اب ہم کو دنیا کی خبر دے دو کہ ہمارے بعد دنیا میں کیا ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا سن لو تمہاری بیویاں جو تم سے بیوہ ہو گئی تھی انہوں نے شادی کر لی تمہارے مال جو تم نے دنیا سے بڑی محنت سے جمع کیے تھے وہ مال  گئے تمہاری اولاد جس کو تم نے بڑے ناز سے پالا تھا

وہ یتیموں میں شامل ہو گئی اور جس مکان کو تم نے بڑا مستحکم بنایا تھا اس میں تمہارے دشمن آباد ہو گئے یہ سن کر ایک مردے نے اپنے ہاں کی خبر بتاتے ہوئے کہا ہمارے کفن پارہ پارہ ہو گئے ہمارے بال جھڑ کر بکھر گئے کھالیں ریزہ ہو گئی آنکھیں بہہ کر رخساروں پر آگئی اور نتھنوں میں سے بھی بہہ رہی ہے ہم نے جو کچھ آگے بھیجا اسی کو پایا اور جو پیچھے چھوڑا اس میں نقصان ہوا

ہم تو اپنے اعمال ہی کے ممنون کرم ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ تو جسم سے جھگڑا کرے گی اور کہے گی تو نے سب کچھ کیا ہے اور جسم کہے گا کہ تو نے مجھے حکم دیا اس لیے میں نے برائی کی تو نے جس چیز کو اچھا بنا کر دکھایا میں نے وہی کیا اس لڑائی کے فیصلے کے لیے اللہ تعالی ایک فرشتے کو بھیجے گا جو کہے گا کہ تم دونوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اپاہج نے سے کہا میں نے ایک پھل دیکھا ہے اگر میں وہاں تک پہنچ نہیں سکتا پھر اندھے نے کہا تو میرے اوپر سوار ہو جا اور پھل توڑ لے چنانچہ اندھے پر سوار ہو گیا

اور اس نے پھلوں کو توڑ لیا یہ مثال دے کر فرشتہ روح اور جسم سے کہے گا بتاؤ ان دونوں آدمیوں میں سے کون شخص حد سے تجاوز کرنے والا ہے روح اور جسم کہیں گے کہ دونوں ہی ہیں دونوں کا جرم برابر ہے اس پر فرشتہ کہے گا تم دونوں نے اپنی جانوں کو حکم دیا اور جسم روح کے لیے سواری کی طرح ہے اور روح اس پر سوار ہے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ روح اور جسم قیامت کے دن جھگڑا کریں گے جسم کہے گا میں تو کھجور کے تنے کی طرح پڑا ہوا تھا اگر تو نہ ہوتی تو میں نہ ہاتھ ہلا سکتا نہ پاؤں روح کہے گی میں تو ایک ہوا تھی۔ اگر جسم نہ ہوتا تمہیں کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتی۔ اس کے بعد فرشتہ اپاہج اور اندھے کی مثال بیان فرما کر روح اور جسم دونوں کا شریک کار کر لیا جائے گا۔

محترم عزیز دوستو یہ واقعات جو آپ کے سامنے بیان ہوتے ہیں جن کو ہم روزمرہ کی زندگیوں میں سنتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالی ہم کو خبردار کرتا ہے کہ اے لوگو مرنے کے بعد تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تم دنیا جمع کرنے میں لگے ہو لیکن مرنے کے بعد تم سے تمہارے اعمال کا حساب کتاب لیا جائے گا

اے انسان مرنے کے بعد تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال ہوگا قبر میں تم سے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا لہذا ابھی سے تیاری کر لو اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو مت جاؤ لیکن ہم لوگ دنیا میں کھو چکے ہیں ہماری آنکھوں پر لالچ اور دنیا کی پٹی بن چکی ہے میرے عزیز دوستوں سوچیے سمجھیے عمل کیجیے.

میں امید کرتا ہوں کہ ویڈیو آپ دوستوں کو پسند آئی ہوگی۔ ویڈیو پسند آ جائے تو لائک اور شیئر ضرور کر دیجیے گا۔ مجھے دیجیے اجازت۔ زندگی رہی تو اگلی بار ایک اور ویڈیو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ تب تک کے لیے اللہ پاک آپ سب کا حافظ و نگہبان ہنستے رہیے اور ہمیشہ مسکراتے رہیے

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.