Taharat Ke Zaroori Adaab


0

بسم اللہ الرحمن الرحیم. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ. آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے طہارت کے ضروری آداب کے بارے میں. تو دوستو اسلام ایسے ملک میں ظاہر ہوا جہاں پانی نسبتا کم تھا. پھر بھی اس نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا. یہ اس بات کی قوی دلیل ہے. کہ تہذیب اور شائستگی کی باتوں میں سب سے اہم چیز طہارت ہے.
میاں بیوی کی ہم بستری کے بعد جب تک دونوں غسل نہ کر لیں. نماز اور قرآن پاک ادا نہیں کر سکتے. اسی سلسلے میں فرمایا اگر تم ناپاک ہو تو غسل کرو. اگر کوئی احتلام کی وجہ سے ناپاک ہو گیا ہو تو اس پر بھی غسل فرض ہے. کپڑوں کو شرعی طور پر پاک صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے. فرمایا اپنے کپڑوں کو پاک رکھو.
پاکیزگی کا اس قدر اہتمام سکھایا کہ اگر پانی میسر نہ ہو یا بیماری کے سبب سے پانی استعمال کرنے میں نقصان کا اندیشہ ہو. تو فرمایا پاک مٹی سے تیمم کرو. ہر نماز ادا کرنے سے پہلے باوضو ہونا ضروری قرار دیا.
وضو در حقیقت ان اعضاء کا دھونا ہے جو عموما کام کے دوران کھلے رہتے ہیں. مثلا ہاتھ کہنیوں تک چہرہ اور پاؤں اور سر کے بال وغیرہ کا مسح کرنا ضروری قرار دیا گیا. تاکہ یہ بھی الجھے ہوے نظر نہ آئے.
جب نماز کا ارادہ کرو تو اپنا چہرہ اور بازو کہنیوں تک دھو لو. اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں دھو لو. یہ یقینی بات ہے کہ کوئی غیر مسلم دن میں پانچ مرتبہ اپنا چہرہ ہاتھ پاؤں وغیرہ نہیں دھوتا ہو گا. سبحان اللہ ہمارے دین نے کتنی نظافت کا سبق دیا.
جمعہ کے دن نماز سے پہلے غسل کرنے کو سنت کا درجہ دیا. تاکہ لوگ پاک صاف اور نہا دھو کر جماعت میں شریک ہوں. کسی کی گندی اور بدبو سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف نہ ہو. پورا مجمع طہارت و پاکیزگی کا نمونہ ہو.
قضائے حاجت اور پیشاب کے بعد استنجا کرنا یعنی عضو خاص مقام مخصوص سے گندگی دور کرنا ضروری قرار دیا گیا. اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا. اور اللہ تعالی طہارت کرنے والوں سے محبت کرتا ہے. جب سو کر اٹھیں تو تین بار پانی سے ہاتھ دھو لیں. دانتوں کی صفائی کے لیے مسواک کرنا سنت ہے عام راستوں اور درختوں کے سایہ میں قضائے حاجت نہیں کرنی چاہیے
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا جائز نہیں اس لیے ایسے پانی سے غسل جنابت بھی نہیں کرنا چاہیے پانی میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے غسل کی جگہ پر پیشاب نہ کرو اس سے اکثر وسوسے پیدا ہوتے ہیں کسی سوراخ میں بھی پیشاب نہیں کرنا چاہیے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کرنا چاہیے پیشاب نہ زمین پر کرنا چاہیے کیونکہ سخت زمین سے پیشاب کے چھینٹے اڑ کر جسم پر پڑ سکتے ہیں.
پیشاب پاخانہ کرتے وقت آپس میں باتیں نہیں کرنی چاہیے. جب قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پیشاب کے مقام کو دائیں ہاتھ سے نہ چھو نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجا کرو. بڑا استنجا تین ڈھیلوں سے کرو. ڈھیلوں کے بعد پانی سے دھو لینا چاہیے. استنجا کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھو لینا چاہیے. بسم اللہ پڑھکر بیت الخلا میں داخل ہوں. کیونکہ بسم اللہ جنات کی آنکھوں اور انسان کی شرم کی جگہوں کے درمیان آڑ ہے.
ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ بالخصوص جمعہ کے دن مسلمانوں پر غسل کرنا کپڑے بدلنا عطر اور تیل لگانا مستحب ہے. عام حالات میں بھی انسان کو صاف ستھرا رہنا چاہیے
تو دوستو امید کرتے ہیں کہ آج کی اس ویڈیو کا مقصد آپ کو سمجھ میں آیا ہوگا اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں تب تک کے لیے اللہ حافظ

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.