بچوں کی خوشحالی کے لیے تیئس بہترین نصیحتیں


0

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بچوں کی خوشحال زندگی کے لیے تئیس بہترین نصیحتیں
١. ہر روز بچے کا ہاتھ, منہ, گلا, کان اور دیگر حصے گیلے کپڑے سے خوب صاف کر دیا کریں. میل جمنے سے گوشت گل کر زخم پڑ جاتے ہیں. ٢. جب پیشاب پخانہ کریں تو فورا پانی سے طہارت کر دیا کریں. وائپس سے پوچھ کر بس نہ کیا کریں. اس سے بچے کے بدن میں خارش اور سوزش ہو جایا کرتی ہے. اگر موسم سرد ہو تو پانی نیند گرم کر لیا کریں
٣. بچے کو الگ سلا دیں اور حفاظت کے واسطے دونوں طرف کی پٹیوں سے دو چارپائیاں ملا کر بچھا دیں. یا اس کی دونوں کروٹ پر دو تکیہ رکھ دیں تاکہ گرنے نہ پائے.
٤. جھولے کی زیادہ عادت بچوں کو نہ ڈالیں. کیونکہ جھولا ہر جگہ نہیں ملتا. اور بہت گود میں بھی نہ رکھا کریں بچوں کو اس سے بچے کمزور ہو جایا کرتے ہیں چھوٹے بچے کو عادت ڈالیں کہ سب کے پاس آ جایا کریں ایک آدمی کے پاس زیادہ ہل جل جانے سے اگر وہ آدمی مر جائے یا نوکری سے چھڑا دیا جائے تو بچہ کی مصیبت ہو جاتی ہے
نمبر سکس اگر بچہ کو دودھ پلانے والی کا دودھ پلانا ہو تو ایسی دودھ پلانے والی تجویز کرنا چاہیے جس کا دودھ ہو اور جوان ہو اور دودھ اس کا تازہ ہو یعنی اس کا بچہ چھ سات مہینے سے زیادہ نہ ہو اور وہ خلوت خصلت کی اچھی ہو اور دین دار ہو احمق, بے شرم, بد چلن, کنجوس, لالچی نہیں ہونی چاہیے.
نمبر سیون جب بچہ کھانا کھانے لگے تو دودھ پلانے والی اور کھانا کھلانے والی پر بچے کا کھانا نہ چھوڑے بلکہ خود اپنے یا اپنے کسی سلیقہ دار محترم آدمی کے سامنے کھانا کھلایا کریں. تاکہ اندازہ کے مطابق کھا کر بیمار نہ ہوجائے. اور بیماری میں دوا بھی اپنے سامنے بنوائیں اور اسے پلائیں. نمبر ایک جب کچھ سمجھدار ہوجائے تو اس کو اپنے ہاتھ سے کھانے کی عادت ڈالیں.
اور کھانے سے پہلے ہاتھ دھلوا دیا کریں. اور داہنے ہاتھ سے کھانا سیکھائیں. اور اس کو کم کھانے کی عادت ڈالیں تاکہ بیمار اور حرص سے بچا رہے. نمبر نائن. ماں باپ خود خیال رکھیں. جو مرد یا عورت بچے پر مقرر ہو وہ بھی خیال رکھے. کہ بچہ ہر وقت صاف ستھرا رہنا چاہیے. نمبر ٹین اگر ممکن ہو تو ہر وقت کوئی بچے کے ساتھ رہے.
کھیل کود کے وقت اس کا دھیان رکھے. بہت دوڑنے کودنے نہ دیں. زیادہ بچوں میں نہ کھیلنے دیں. گلیوں سڑکوں میں نہ کھیلنے دیں. بازار وغیرہ اس کو لیے نہ پھریں. اس کی ہر بات کو دیکھ کر ہر موقع کے مناسب اس کو آداب قائدے سکھلائیں. بے جا سے اس کو روکنا چاہیے نمبر eleven کھلانے والے کو تاکید کر دیں کہ اس کو غیر جگہ کچھ نہ کھلائے اگر کوئی اس کو کھانے پینے کی چیز دے تو گھر لا کر ماں باپ کے روبرو رکھ کر دیں آپ خود ہی اس سے کھلائیں نمبر ٹویلو بچہ کو عادت ڈالیں
کہ بجز اپنے بزرگوں کے اور کسی سے کوئی چیز نہ مانگیں اور بغیر اجازت کے کسی کی دی ہوئی چیز نہ لے نہ کھائے نمبر تھرٹین بچہ کو بہت لاڈ پیار نہ کریں ورنہ ابتر ہو جائے گا نمبر فورٹین کو بہت تنگ کپڑے نہ پہنائیں اور بہت گوٹا کناری بھی نہ لگائیں البتہ عید بکر عید میں مذائقہ نہیں نمبر fifteen بچہ کو منجن مسواک کی عادت ڈالیں نمبر sixteen پڑھنے کے معاملہ میں بچے پر بہت محنت نہ ڈالیں شروع میں ایک گھنٹہ پڑھنے کا مقرر کر دیں پھر دو گھنٹے پھر تین گھنٹے اس طرح اس کی طاقت اور سہارا کے موافق اس سے محنت لیتے رہیں ایسا نہ کریں کہ سارا دن رہے.
ایک تو تھکن کی وجہ سے بچہ جی چرانے لگے گا. پھر زیادہ محنت سے دل اور دماغ خراب ہو کر ذہن اور حافظہ بھی فطور آجائے گا اور بیماریوں کی طرح سست رہنے لگے گا. پھر پڑھنے میں جی بھی نہیں لگے گا. سیونٹین سوائے معمولی چھٹیوں کے بدوں سخت ضرورت کے بار بار چھٹی نہ دلوائیں کہ اس سے طبیعت اچاہٹ ہو جایا کرتی ہے.
ایٹین جہاں تک میسر ہو جو علم جو فن سکھائیں. ایسے آدمی سے سکھائیں جو اس میں پورا عالم اور کامل ہو بعض آدمی سستا معلم رکھ کر اس سے تعلیم دلواتے ہیں شروع سے ہی طریقہ بگڑ جاتا ہے پھر درست ہی مشکل ہو جاتی ہے نائنٹین آسان سبق ہمیشہ تیسرے پہر کے وقت مقرر کریں اور مشکل سبق سے گھبرا جائے گی نمبر بیس بچوں کو خصوصا لڑکی کو پکانا اور سینا ضرور سکھائیے
اکیس شادی میں دلہن کی عمر میں زیادہ فرق ہونا بہت سی خرابیوں کا باعث ہو سکتا ہے. ٹونٹی ٹو بہت کم عمری میں شادی نہ کریں.اس میں بھی بہت بڑے نقصانات ہو سکتے ہیں

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

0 Comments

Your email address will not be published.