عورت جس کا نام صفیہ تھا


0

عورت جس کا نام صفیہ تھا وہ اپنے شوہر ماجد اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھی بڑی بیٹی کا نام ایمان اور چھوٹی کا نام عروج تھا ایمان کی عمر تیرہ سال اور عروج کی عمر بارہ سال کی ہو گی صفیہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی تھی اور قرآن پاک کی تفسیر بھی پڑھی ہوئی تھی وہ ایک نیک عورت تھی لیکن نہ جانے کیا وجہ تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں سے خوش نہ تھی بڑی بیٹی ایمان کے ساتھ پھر بھی اس کا رویہ ٹھیک تھا لیکن عروج کو ہر وقت اور پیٹتی رہتی تھی۔ کیونکہ جب صفیہ کے گھر عروج ہونے والی تھی تو صفیہ کو بہت امید تھی کہ اس کے گھر بیٹا ہی ہوگا۔ لیکن پھر عروج ہو گئی۔ اس لیے صفیہ کا رویہ شروع سے ہی عروج کے ساتھ بے رخی والا تھا۔ اگر عروج کسی بھی کام میں دیر کر دیتی۔ تو صفیہ اسے خوب مارتی اور ہمیشہ اسے یہی الفاظ کہتی کہ تو پیدا ہوتے ہی کیوں نہیں مر گئی۔ کمبخت ماری تو نے میری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ پھر عروج پانچ سال بعد صفیہ کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا صفیہ نے اس کا نام حمزہ رکھ دیا تھا صفیہ بہت خوش تھی کہ اللہ نے اسے بیٹے سے نوازا ہے لیکن یہ کیا دن با دن صفیہ میں اکڑ آتی جا رہی تھی اور غرور آتا جا رہا تھا صفیہ کا بیٹا ماشاءاللہ بہت پیارا تھا وہ اس کی دونوں بیٹیوں سے پیارا تھا اور ماشاءاللہ وہ بہت صحت مند بھی تھا صفیہ کے بیٹے کی جب بھی کوئی تعریف کرتا تو صفیہ فورا اسے سرمے کا کالا ٹیکہ لگا دیتی تھی اور جب بھی کوئی محلے دار صفیہ کے بیٹے کو اٹھانے کی کوشش کرتا تو صفیہ کہتی یہ اس کے ہونے کا وقت ہو گیا ہے یا کبھی کہتی کہ اس کو بھوک لگی ہے

ابھی نہ اٹھانا یعنی وہ کبھی کوئی بہانہ بناتی تو کبھی کوئی حالانکہ صفیہ کے محلے میں جتنے بھی گھر تھے ان سب عورتوں کے دو سے تین تین لڑکے ہوں گے لیکن صفیہ دوسری عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتی جیسے صرف اس کے گھر میں ہی بیٹا ہے اور کسی کے گھر میں نہیں ہے یہاں تک کہ صفیہ اپنے بیٹے حمزہ کو اپنی بڑی بیٹی ایمان کو تو پکڑنے دیتی تھی وہ بھی اپنی نظروں کے سامنے لیکن عروج اگر حمزہ کو ہاتھ لگا دیتی تو صفیہ عروج کو خوب مارتی اور بولتی منحوس کہیں کی خبردار اگر بھائی کو ہاتھ لگایا تو جب بھی ہاتھ اسے لگاتی ہے وہ رونا شروع کر دیتا ہے خبردار اگر آئندہ سے اسے ہاتھ لگایا صفیہ کے گھر میں جب سے بیٹا ہوا تھا اس میں نہ جانے کس بات کا غرور آ گیا تھا اور وہ اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھنے لگی تھی صفیہ کے بیٹے کے بارے میں جب بھی اس سے کوئی بات کرتا تو سے لڑنا شروع ہو جاتی تھی اور آگے سے بولتی یہ تو میرے لیے اللہ کا تحفہ ہے جو اللہ نے میری دعاؤں کے ذریعے عطا کیا ہے میں نے اللہ سے بہت دعائیں مانگ کر لیا ہے اب صفیہ کا بیٹا پانچ ماہ کا ہو چکا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک صحت مند بچوں میں شمار ہونے لگا تھا ایک دن کسی عورت نے کہا کہ صفیہ ماشاءاللہ تمہارا بیٹا بہت صحت مند ہے تو اس دن کے بعد صفیہ نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکالنا چھوڑ دیا تھا وہ ہر وقت گھر کا دروازہ رکھنے لگی تھی اگر کوئی آتا تو وہ حمزہ کو اندر کمرے میں لے جاتی تھی تاکہ اس کو کسی کی نظر نہ لگ جائے ایک ماہ اور گزر گیا تو صفیہ کا بیٹا چھ ماہ کا ہو گیا

تھا صفیہ کے بیٹے کو دیکھ کر ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ یہ چھ ماہ کا نہیں بلکہ دو سال کا ہے اس لیے صفیہ اب ہر کسی کی نظروں سے اپنے بیٹے کو دور رکھنے لگی تھی اور لوگوں سے کم میل جول رکھنے لگی تھی محلے کی عورتیں اب صفیہ کے بارے میں باتیں کرنے لگی تھیں کہ دیکھو اپنے کو ہم سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اللہ نے بس اسی کو ہی بیٹا عطا کیا ہے نہ جانے صفیہ اپنے بیٹے کو لے کر کیوں اتنا اکڑ میں آ گئی ہے بھلا کیا ساری زندگی وہ اس کو گھر میں ہی رکھے گی ایک نہ ایک دن تو وہ اسے گھر سے باہر نکالے گی ہی نہ بھلا ہم کیوں اس کے بیٹے کو بری نظر لگائیں گے اللہ نے ہمیں بھی تو بیٹے عطا کیے ہیں لیکن ہم میں ایسا غرور نہیں آیا جیسا غرور صفیہ کو ہے حالانکہ صفیہ نے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی تھی قرآن کی تفسیر پڑھنے والا انسان دین کی ہر بات سے واقف ہوتا ہے لیکن صفیہ کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا صفیہ کا شوہر ماجد اسے بہت سمجھاتا کہ صفیہ جیسے تم اپنے بیٹے کو چھپا کر رکھتی ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اور وہ کوئی کھلونا یا کوئی چیز نہیں ہے جس کو تم چھپا کر اندر کمرے میں رکھتی ہو اور تم دنیا کی انوکھی عورت نہیں ہو جس نے لڑکا پیدا کیا ہے میری ماں نے بھی لڑکے پیدا کیے ہیں تمہاری ماں نے بھی لڑکے پیدا کیے اس گلی محلے میں جتنی بھی عورتیں ہیں ان سب نے بیٹے پیدا کیے ہیں تو بھلا کوئی کیوں تمہارے بیٹے کو بری نظر لگائے گا تو صفیہ بولتی ماجد آپ نہیں جانتے یہ دنیا رنگ برنگی ہے نہ جانے کس کی نظر میرے منے کو لگ جائے تو میں کیا کروں گی اور میرا تو صرف ایک ہی بیٹا ہے تو ماجد بولتا کیا ہو گیا آج ہمارا ایک بیٹا ہے آنے والے وقت میں شاید اللہ ہمیں ایک اور بیٹا عطا کر دے تو صفیہ بولتی مجھے آنے والے وقت کا تو پتا نہیں فلحال اب جو وقت جا رہا ہے میں تو اس لحاظ سے بات کر رہی ہوں تو ماجد بولا اچھا ٹھیک ہے جو جی میں آئے وہ کرو لیکن میں تم کو بتا دوں کہ تم یہ سب ٹھیک نہیں کر رہی ہو پھر ایک دن صفیہ کے بیٹے حمزہ کو بخار نے گھیر لیا صفیہ پہلے تو اسے گھر میں دوائیاں دیتی رہی

لیکن جب بخار نہ اترا تو ڈاکٹر کے کلینک پر لے گئی اور حمزہ کو دوائی لے کر دی اگلے دن صبح تک حمزہ کا بخار کافی کم ہو گیا تھا اور اب وہ کافی بہتر بھی تھا صفیہ نے جب منے کو ٹھیک ہوتے دیکھا تو بولی نہ جانے کس کی کالی نظر میرے بیٹے کو لگ گئی تھی تو ماجد بولا حمزہ گھر سے باہر تو جاتا نہیں گھر والوں کی ہی نظر لگ گئی ہوگی تم ماں ہو ماں کی بھی نظر لگ جاتی ہے تو صفیہ بولی ارے میری نظر کیوں لگے گی منے کو نظر صرف دشمنوں کی لگتی ہے ماجد مزید کچھ نہ بولا اور چپ ہی رہا ایک ہفتے بعد صفیہ کے بیٹے حمزہ کو پھر سے بخار ہو گیا صفیہ پھر ڈاکٹر کے پاس لے گئی لیکن اس منے کا بخار کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور بخار ہونے کی وجہ سے حمزہ مزید بیمار ہو گیا تھا اور کافی کمزور بھی ہو گیا تھا اچانک ایک دن صفیہ کی ایک پڑوسن گھر آ گئی اس نے جب صفیہ کے بیٹے کی یہ حالت دیکھی تو وہ بولی صفیہ ایک بات کہوں تو صفیہ بولی ہاں کہو تو وہ بولی برا نہ منانا مجھے ایسا لگ رہا ہے تمہارا منا بس تھوڑے دن تمہارے پاس ہے تو صفیہ اس عورت کو ایسے بولی جیسے اسے کھا جائے گی اور اسے دھکے مار مار کر گھر سے نکال دیا لیکن شاید صفیہ کا وقت خراب چل رہا تھا اور دو دن بعد حمزہ کی موت ہو گئی اس بخار نے حمزہ کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ جو بھی حمزہ کی میت پر آ رہا تھا وہ مان ہی نہیں رہا تھا کہ یہ صفیہ کا بیٹا ہے حمزہ کی میت پر عورتیں رنگ برنگی باتیں کر رہی تھیں کوئی کہتی کہ صفیہ کو بہت غرور تھا نا بیٹا ہونے پر اللہ نے اس کا غرور توڑ دیا

ہے اور اس کے منے کو واپس لے اس کا غرور توڑا ہے کوئی کہتی بڑا چھپا کر رکھتی تھی نا اپنے منے کو اب دیکھو ساری دنیا اس کی میت کو دیکھنے آئی ہے اب بھی چھپا لے صفیہ کے کانوں میں رنگ برنگی عورتوں کی آوازیں پڑھ رہی تھی اور صفیہ بس روتے جا رہی تھی منے کی موت کے دو سے تین دن تک صفیہ منے کی یاد میں روتی رہی اور صفیہ یہ سوچنے لگی کہ اللہ نے مجھے پہلے اپنی دو رحمتوں یعنی بیٹیوں سے نوازا تھا لیکن میں نے ناشکری کی تھی اپنی بیٹیوں کو اچھا نہیں سمجھتی تھی اور جب اللہ نے مجھے بیٹا دیا تو میں اپنی بیٹیوں کو برا بھلا کہنے لگی تھی اور بیٹے کی وجہ سے مجھ میں غرور آ گیا تھا شاید اللہ نے میرا غرور توڑا ہے کیونکہ میں نے اپنے بیٹے کو دنیا سے چھپا کر رکھا تھا لوگ میرے بیٹے کو اٹھانا چاہتے تھے اسے پیار کرنا چاہتے تھے میری بیٹیاں اپنے بھائی کو اٹھانا چاہتی تھی اسے گود میں لینا چاہتی تھی اور اسے پیار کرنا چاہتی تھی اسی طرح محلے کے لوگ بھی میرے بیٹے کو اٹھانا چاہتے تھے اور اس سے پیار کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے ان کو اٹھانے نہیں دیا اور اللہ نے مجھ سے ہی میرا بیٹا لے لیا ہے اور اللہ نے میری گود ہی خالی کر دی ہے شاید مجھے اپنی غلطیوں کی سزا ملی ہے صفیہ اب اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرنے لگی تھی خاص کر اپنی بیٹی عروج سے اب ایمان تیرہ سال کی اور عروج بارہ سال کی ہو گئی ہے صفیہ آج بھی دعائیں مانگتی کہ اللہ اسے بیٹا عطا کر دے۔ لیکن حمزہ کے بعد ابھی تک اس کے گھر میں دوبارہ اولاد نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی نا۔ کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ جو بھی عطا کرے اسے خوشی خوشی قبول کرنا چاہیے۔ نا کہ لوگوں سے اور اپنے گھر والوں سے اسے چھپا کر رکھنا چاہیے اور نا ہی اسے اپنوں کے پیار کرنے سے محروم رکھنا چاہیے۔ اور غرور تو بالکل ہی نہیں کرنا چاہیے۔ غرور تو اللہ کو بھی پسند نہیں ہے

تکبر اور اکڑ میں رہنے والے کی آخرت بہت بری ہوتی ہے اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی جو بھی عطا کرے ہمیں اس میں خوش رہنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ سلوک اور اتفاق سے رہنا چاہیے نہ کہ دوسروں کو برا بھلا کہنا چاہیے اور غرور اور تکبر کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے جس طرح صفیہ کو اللہ تعالی نے بیٹا عطا کیا اور بیٹے کی وجہ سے صفیہ میں اکڑ اور غرور آ گیا تھا اور صفیہ غرور کرنے لگی تھی اور اللہ تعالی نے اس کے غرور کا سر نیچا کر دیا.
اس کی گود کو خالی کر کے. اس لیے غرور اور اکڑ بہت بری چیز ہے. ہمیں بھی عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے
آپ کو یہ کہانی کیسی لگی
یہ کہانی اپ اپنے دوستوں ساتھ بھی شیر کریے شوخریہ

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
amir

0 Comments

Your email address will not be published.