ایک گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی


0

ایک گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی
ایک گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی جس کی یہ ڈمانڈ تھی کہ شادی اس سے کرے گی جو شخص اسے باپردہ رکھے گا ایک نوجوان اس شرط پر شادی کے لیے راضی ہو گیا دونوں کی شادی کر دی گئی وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ ایک بیٹا پیدا ہوا ایک دن شوہر نے بیوی سے کہا کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں کھانا کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے میرا زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ہے کل سے تم مجھے کھانا کھیتوں میں ہی لا دیا کرنا۔ بیوی اس بات کے لیے راضی ہو گئی۔ وقت مزید گزرا تو ان کے ہاں ایک اور بیٹا پیدا ہوا۔ جس پر شوہر نے کہا کہ اب گزارا کرنا مشکل ہو گیا

ہے۔ تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں میرا ہاتھ بٹانا پڑے گا۔ بیوی اس بات کے لیے بھی راضی ہو گئی لیکن وہ دل سے خوش نہیں تھی کیوں کہ اب وہ بے پردگی تک پہنچ گئی تھی تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر اسے مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے وقت گزرتا گیا اور اولاد بڑی ہو گئی ایک دن یوں ہی بیٹے شوہر ہنسنے لگا بیوی نے پوچھا کیا بات ہے کیوں ہنس رہے ہو تو شوہر کہنے لگا کہ تو بہت پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار پردہ ختم ہو گیا کیا فرق پڑا تجھے پردے سے بے پردگی بھی تو ویسے ہی گزر رہی ہے بیوی نے کہا کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ کر بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں۔ شوہر نے کہا ٹھیک ہے۔ اور وہ کمرے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بیوی نے اپنے بال بکھیرے اور رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ پہلے سب سے بڑا بیٹا آیا اور ماں سے رونے کا سبب پوچھا ماں نے کہا کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے بیٹے نے کہا تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتا ہے آپ کا خیال بھی رکھتا ہے اس نے ماں کو سمجھایا اور چلا گیا بیوی پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرنے لگی اور دوسرے بیٹے کے آنے پر اسے بتانے لگی

کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے بیٹے کو آگیا اس نے باپ کو برا بھلا کہا اور ماں کو سمجھا کر چلا گیا اب تیسرا بیٹا گھر میں داخل ہوا تو بیوی پھر سے رونے لگی چھوٹے بیٹے کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے یہ سنتے ہی وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور اونچی آواز میں گالیاں دیتے ہوئے ڈنڈا اٹھا لیا اور کہنے لگا کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں اتنی ہی دیر میں بیوی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے شوہر کو آواز دے کر باہر بلایا پھر کہنے لگی کہ میرا پہلا بیٹا پردے میں ہوا تھا.

اس لیے اس نے تیرا پردہ رکھا. دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا. اس لیے اس نے تیری آدھی لاج رکھی. جبکہ تیسرا بیٹا جو مکمل بے پردگی میں پیدا ہوا تھا. وہ مکمل طور پر تیری عزت کا پردہ اتارنے لگا. سبق یہ ہے کہ پردہ عورت کا فطری تقاضہ ہے. اور جو اللہ تعالی کی طرف سے حکم بھی ہے.
جس کی بے شمار حکمتیں خالق ہی جانتا ہے اور یہ دنیاوی قاعدہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی گاڑی کو چلانے کے لیے اس کی ہدایت کے بغیر چلانا شروع کر دیں تو وہ یقینا برباد ہو جائے گی۔ بات ہے تو کڑوی لیکن ہے سچی کہ ایک مرد کی غیرت کا اندازہ اس کی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جا سکتا ہے خواہشات اپنی مرضی سے اٹھائے ہوئے بوجھ ہیں. اگر اپنی پرواز بلند رکھنی ہے تو بوجھ ہلکا رکھیں.
اگر دل دکھانے پر بھی کوئی شخص آپ سے شکایت نہ کرے تو اس شخص سے زیادہ محبت آپ سے کوئی نہیں کر سکتا کتنی خوبصورت ہوتی ہے وہ محبت جو وقت کے ساتھ بدلتی نہیں ہے ورنہ اظہار محبت کے کچھ وقت بعد محبتیں پھیکی پڑ جاتی ہیں پھر انہیں ٹوٹی ہوئی جوتی کی طرح گھسیٹا جاتا ہے آخری دن تک پہلے جیسی محبت ہی معجزہ ہوتی ہے کہتے ہیں کہ بیوی کا غیر مناسب رویہ بد زبانی اور شوہر کو اس کا مقام نہ دینا ہی شوہر کو جلد بوڑھا کر دیتا ہے کوئی مکمل کسی دوسرے جیسا نہیں بن سکتا اور بدلنا ضروری بھی نہیں ہے ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہے ایک دوسرے کا احترام ضروری ہے محبت ضروری ہے اور سب سے بڑھ کر اعتماد ضروری ہے جس مرد کو سچی محبت ہوگی وہ اس عورت کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا چھوڑے گا تو مر جائے گا غلطی نہ ہونے کے باوجود سب ختم ہونے کے قریب ہونے کے باوجود وہ اسے کھونے کے ڈر سے معافی مانگ لے گا یہی اصل محبت کی علامت ہے ایسا مرد ہیرا ہے اور ایسی عورت خوش نصیب ہے

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
amir

0 Comments

Your email address will not be published.