اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر بیماریاں کیوں بھیجتا ہے


0

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ انسان کی طرف سے کیے جانے والے گناہ اور نافرمانیاں چاہے یہ گناہ کفر کی حد تک ہوں یا پھر عام گناہ یا کبیرہ گناہوں سے تعلق رکھتے ہوں چنانچہ جزا اور فوری سزا کے طور پر اللہ تعالی کی طرف سے گناہ گار شخص کو مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے فرمان باری تعالی ہے ترجمہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے تو یہ تمہاری اپنی وجہ سے ہے اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا ترجمہ اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ بہت سے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالی نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالی معاف کر دیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے
علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جن سے گناہ ہو سکتے ہیں انبیاء علیہم السلام جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ان کو جو تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں مثلا رفع درجات اور درحقیقت ان کی حکمتوں کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت فرماتا ہے یا اسے گناہوں سے پاک صاف کرنا چاہتا ہے تو اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے
دوسرا سبب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے صابر اور مومن بندے کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے چنانچہ اللہ تعالی اسے مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالی کی آزمائش پر راضی ہو اور صبر کرے نتیجے میں اللہ تعالی اسے آخرت میں صابرین کے اجر سے نوازے اور اپنے ہاں اسے کامیاب لوگوں میں لکھ دے یہ بات مصلے ہے کہ انبیاء کرام اور نیک لوگوں کو بھی آخر دم تک مصیبتوں کا سامنا رہا اللہ تعالی نے ان کے لیے ان مصیبتوں کو جنتوں میں بلند درجات حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا یہی وجہ ہے کہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کے لیے اللہ تعالی کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کے لیے انسان کے اعمال ناکافی ہوں
تو اللہ تعالی اس کو جسم مال اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی مسلمان کو کوئی بھی کانٹا یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کا گناہ مٹا دیتا ہے اسی طرح انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی آزمائش کڑی ہو گی اجر بھی اتنا ہی عظیم ہو گا اللہ تعالی جب سی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کی آزمائش فرماتا ہے چنانچہ جو اللہ تعالی کی آزمائش پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اللہ تعالی کی آزمائش پر ناراضگی کا اظہار کرے
اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ناراضگی ہوتی ہے جیسا کہ آپ کو عام دیکھنے میں ملے گا کہ جیسے اللہ تعالی کسی مصیبت میں مبتلا فرمائے اور وہ اس پر صبر اور شکر کرے تو اللہ تعالی اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جنت درجات بلند کر دیتا ہے نیز اسے صابرین کے اجر سے بھی نوازتا ہے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دنیاوی سزا اخروی سزا سے منسلک ہوتی ہے جدا نہیں ہوتی جیسا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کن لوگوں کی آزمائش سخت ہوتی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کی ان کے بعد جو جس قدر انبیاء کرام کے نقش قدم پر چلنے والا ہو گا انہیں اسی قدر آزمائش میں ڈالا جائے گا چنانچہ ایک آدمی کو اس کی دین داری کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے جتنی دینداری ٹھوس ہو گی آزمائش بھی اتنی ہی سخت ہوگی اور اگر اس کی دینی حالت پتلی ہوگی تو اس کی آزمائش بھی کم ہوگی حتی کہ آزمائشیں انسان کے گناہوں کو مکمل طور پر مٹا دیتی ہیں اور انسان پر چلتا پھرتا ہے اور اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ جس وقت سخت اندھیرے اور بادلوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھتے تو کہتے یہ سب میرے گناہوں کی وجہ سے ہے اگر میں یہاں سے چلا جاؤں تو تمہیں اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا
اگر ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ کا یہ حال تھا تو ہماری کیا حالت ہونی چاہیے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندے کو جو کوئی ہلکی یا سخت مصیبت پیش آتی ہے تو وہ اس کے گناہ کا نتیجہ ہوتی ہے اور بہت سارے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں حدیث مبارک میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے جماعت مہاجرین پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہو جاؤ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں
اس سے کہ تم میں مبتلا ہو نمبر ایک پہلی یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھی نمبر دو اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط مصائب اور بادشاہوں کے ظلم و ستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے نمبر تین اور جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوۃ نہیں دیتی تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے ہوں تو ان پر کبھی بھی بارش نہ برسے نمبر چار اور جو قوم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عیب کو توڑتی ہے
تو اللہ تعالی غیروں کو ان پر مسلط فرما دیتا ہے جو اس قوم سے عداوت رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں نمبر پانچ اور جب مسلمان حکمران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ نظام میں مرضی کے کچھ احکام اختیار کر لیتے ہیں اور باقی دیتے ہیں تو اللہ تعالی اس قوم کو خانہ جنگی اور باہمی اختلافات میں مبتلا فرما دیتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کی حقیقت دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ ویسے تو یہ عذاب ہے اسے اللہ تعالی جس پر چاہے بھیجتا ہے لیکن اللہ تعالی نے اسے ان مومنین کے لیے باعث رحمت قرار دیا ہے جو اس میں ابتلا کے وقت صبر کرتے ہیں
اور جس یا جس جگہ طاعون ہو اور کوئی مومن اپنے اس شہر میں ٹھہرا رہے اور صبر کرنے والا اور اللہ سے ثواب کا طالب رہے یعنی اس طاعون زدہ علاقے میں کسی اور غرض و مصلحت سے نہیں بلکہ محض ثواب کی خاطر ٹھہرا رہے نیز یہ جانتا ہو کہ اسے کوئی چیز یعنی کوئی اذیت اور مصیبت نہیں پہنچے گی مگر صرف وہی جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دی اور جس سے کہیں مفر نہیں تو اس مومن کو کی مانند ثواب ملے گا.

Advertisement

Like it? Share with your friends!

0
2pglv

One Comment

Your email address will not be published.